''ذَیلی نگران'' کا تعاوُن حاصِل کیجئے جب کہ وہ مسئلہ(مَسْ۔ءَ۔لَہ) حل کرسکتا ہو۔ ورنہ شَرِیعَت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مزید آگے مَثلاً اپنی مُشاوَرت کے ''حلقہ نگران'' اگر یہ بھی نہ کرسکے تو عَلاقائی مشاوَرت کے نگران ،پھر تحصیل مُشاوَرت کے نگران، پھر شہر مُشاوَرت کے نگران ، پھر ڈویژن کی مُشاوَرت کے نگران، پھر صُوبے کی مشاوَرت کے نگران، پھر مُلک کی انتِظامی کا بینہ کے نگران سے رُجُوع کیجئے، یاد رکھیئے ! اگر آپ نے شَرعی مَصلِحت کے بِغیر کسی ایک سے بھی خواہ وہ کتنا ہی بڑا ذمّے دار ہو اُس اسلامی بھائی کی بُرائی بیان کی تو یہ گناہ کا کام ہوگا۔اور اگر آپ کی وجہ سے بات عام ہوگئی اور عَلاقے میں تنظیمی مسائل کھڑے ہوگئے اور سنّتوں کے مَدَنی کام کو نقصان پہنچا تو آپ کی گردن پر دین کے کام میں فساد برپا کرنے کا الزام اور درد ناک عذاب کا اِستِحقاق ہوگا۔
مدینہ ۸: سنّتوں بھرے اِجتماعات وغیرہ میں بیان کی دو صورَتیں ہوں گی۔
(الف) وہ مُبَلِّغِین جو علم و عمل میں مُمتاز ہوں گے اور تبلیغِ دین کی بھرپور صَلاحِیَّت رکھتے ہوں گے ( مَثلاً درسِ نظامی کرلیا ہو نیز مُطالعَہ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ حافِظہ بھی قَوی ہو اور شَرعی غَلَطیاں نہ کرتے ہوں) ان کو زَبانی بیان کرنے کی اجازت ہوگی۔
( ب) وہ مُبَلِّغِین جو علم میں مُمتاز نہ ہوں گے وہ علمائے اہلسنّت کی کُتُب سے حسبِ