Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
99 - 220
 ایذائے مسلم کے اِرتِکاب کی سخت حَوصَلہ شکنی کرتی ہے۔ مسلمان کو اِیذا پہنچتی ہو تو سُنّت پر عمل کرنا بھی بعض صورتوں میں حرام ہو جاتا ہے۔ مَثَلاً نَمازِ فجرو ظُہر میں طِوالِ مُفَصّل( سورۃُ الحُجُرات تا سُورۃُ البُرُوج کوطِوالِ مُفَصّل کہتے ہیں)سے پوری دو سورَتیں ہر رَکعت میں سورۂ فاتِحہکے بعد ایک ایک سورت پڑھنی سنّت ہے۔ ایک قول کے مطابِق فجر و ظہر میں سورۂ فاتِحہ کے علاوہ مجموعی طور پر چالیس یا پچاس اور دوسری روایت کے مطابِق ساٹھ سے لیکر سو تک آیتیں پڑھی جائیں۔(فتاوی رضویہ ، ۶/ ۳۲۴) البتّہ کوئی مریض یا ایسا آدمی نَماز میں شامل ہو جس کو جلدی ہے اور دیر ہونے کی صورت میں اس کوتکلیف ہوگی تو ایسی صورت میں تکلیف دِہ حد تک طویل قِرائَ ت کرنا حرام ہے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فتاوٰی رضویہ جلد6 صَفْحَہ325 پر فرماتے ہیں: یہاں تک کہ اگر ہزار آدمی کی جماعت ہے اور صبح کی نَماز ہے اور خوب وسیع وَقت ہے اور جماعت میں 999آدَمی دِل سے چاہتے ہیں کہ امام بڑی بڑی سورَتیں پڑھے مگر ایک شخص بیمار یا ضَعیف بوڑھا یا کسی کام کاضَرورت مند ہے کہ اس پر تَطویل( یعنی طوالت) بار ہو گی اسے تکلیف پہنچے گی تو امام کوحرام ہے کہ تَطویل (یعنی طوالت) کرے بلکہ ہزار میں اس ایک کے لحاظ سے نَماز پڑھائے جس طرح مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے صرف اُس عورت اور اس کے بچّے کے خیال سے نَمازِ فجر مُعَوَّذَتَین( یعنی سورۃُ الفلق اور   سورۃُ النّا س) سے پڑھا دی۔اورمُعاذ ابنِ جَبَل  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ پر تَطویل میں سخت ناراضی فرمائی یہاں تک