بے چین ہوگا صرف قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ سے نماز پڑھا دی۔ صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ اَجْمَعِیْن (فتاوی رضویہ،۶/۳۲۴)
بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کردیتے
حضرت سیدنا اَنس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: میں نماز شروع کرتا ہوں اور اسے دراز کرنا چاہتا ہوں کہ بچے کی رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز میں اِختصار کرتا ہوں کیونکہ اس کے رونے سے اس کی ماں کی سخت گھبراہٹ جان لیتا ہوں۔ (بخاری،کتاب الاذان،باب من اخف۔۔۔الخ،۱/۲۵۳، حدیث: ۷۰۹)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : چونکہ حضورصلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے عورتیں بھی نماز پڑھتی تھیں جو اپنے بچوں کو گھر سُلاکر آتی تھیں، جب گھروں سے ان کے رونے کی آواز آتی تو سرکار(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) ان کی ماؤں کے خیال سے نماز ہلکی کرتے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲/۲۰۳)
طویل قراء ت نہ کرے
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:شریعتِ اسلامِیّہ