پوچھا گیا کہ قرآن شریف کی تلاوت آواز سے کرنا یا آہستہ چاہئے؟جواب دیا: قرآن مجید کی تلاوت آواز سے کرنا بہتر ہے مگر نہ اتنی آواز سے کہ اپنے آپ کو تکلیف یا کسی نمازی یا ذاکر (یعنی ذکر کرنے والے )کے کام میں خلل ہو یا کسی جائز نیند سونے والے کی نیند میں خلل آئے یا کسی بیمار کو تکلیف پہنچے یا بازار یا سرایا عام سڑک ہو یا لوگ اپنے کام کاج میں مشغول ہیں اور کوئی سننے کے لئے حاضر نہ رہے گا ان صورتوں میں آہستہ ہی پڑھنے کا حکم ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ،۲۳/۳۸۳)
حاجت سے زیادہ بلند آواز کرناکیسا؟
صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویلکھتے ہیں:حاجت سے زیادہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنا کہ اپنے یا دوسرے کے لیے باعثِ تکلیف ہو، مکروہ ہے۔(ردالمحتار،کتاب الصلاۃ، فصل فی القراء ۃ،۲/۳۰۴) (بہار شریعت،۱/۵۴۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(19)مقتدیوں کو تکلیف نہ دیجئے
نماز کی اِمامت کرنے والے کو بھی مقتدیوں کی تکلیف کا خیال رکھنے کا کہا گیا ہے چنانچہ فتاویٰ رضویہ جلد 6صفحہ324پر ہے:خودحضو راقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے نمازِ فجر میں ایک بچے کے رونے کی آواز سن کر اس خیالِ رحمت سے کہ اُس کی ماں جماعت میں حاضر ہے طولِ قراء ت سے اُدھر بچہ پھڑکے گا اِدھر ماں کا دل