ایسے رہا کرو کہ کریں لوگ آرزو
ایسے چلن چلو کہ زمانہ مثال دے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(18)تلاوت کرتے ہوئے تکلیف نہ دیجئے
اسلامی شریعت میں حقوق العباد کا اتنا خیال رکھا گیا ہے کہ قرآنِ کریم جیسی مبارک کتاب کی تلاوت کرنے والے کو بھی اتنی آواز سے تلاوت کرنے کی تاکید ہے جس سے خود اسے تکلیف پہنچے نہ کسی اور کو چنانچہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکا بیان ہے کہ رات میں نبی کریمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قِرَا ء َت یوں تھی کہ کبھی بلندپڑھتے کبھی پَست۔ (ابوداؤد،کتاب التطوع،باب رفع الصوت۔۔۔الخ،۲/۵۴، حدیث: ۱۳۲۸ )
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یعنی تہجد میں کبھی بلند آواز سے قرأت کرتے تھے اور کبھی آہستہ آواز سے یعنی اگر تنہائی میں تہجد پڑھتے تو بلند آواز سے پڑھتے اور اگر وہاں سونے والے ہوتے تو آہستہ قرا ء ت فرماتے تاکہ انہیں تکلیف نہ ہو۔(مراٰۃ المناجیح،۲/۲۴۲)
تلاوت آواز سے کرنا بہتر ہے مگر کب؟
اعلیٰ حضرت ،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمنسے