نہیں کی؟اسی طرح آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہایک ایک چیز کے بارے میں کُرید کُرید کر دریافت فرماتے رہے اور قاصِد اپنی معلومات کے مطابق جواب دیتا رہا ۔جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے سُوالات کا سلسلہ ختم ہوا تو قاصد نے آپ کی مِزاج پُرسی کی کہ آپ کی صحت کیسی ہے؟ اہل و عِیال کے بارے میں بھی پوچھا تو حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے فوراًپھونک مار کرچراغ بجھا دیا اور دوسرا چراغ لانے کا حکم دیا چنانچہ ایک معمولی چراغ لایا گیا جس کی روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا: ہاں! اب جو چاہو پوچھو۔ اس نے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے اہل و عِیال اور متعلقین کے حالات پوچھے، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہجواب دیتے رہے ۔قاصد کوچراغ بجھانے سے بڑا تعجب ہوا تھا،چنانچہ اس نے پوچھ ہی لیا : یاامیرَالمُؤمنین ! آپ نے ایک انوکھا کام کس لئے کیا؟ فرمایا: وہ کیا؟عَرض کی: جب میں نے آپ کی اور اہل و عیال کی مزاج پرسی کی تو آپ نے چراغ گُل کردیا ؟ فرمایا:اللّٰہ کے بندے! جو چراغ میں نے بجھایا تھا وہ مسلمانوں کے مال سے روشن تھا، لہٰذا جب تک میں تم سے مسلمانوں کے حالات و ضَروریات دریافت کررہا تھا تویہ روشن تھا،اس طرح یہ مسلمانوں کے کام اور ان ہی کی ضرورت کے لئے میرے پاس روشن تھا مگر جب تم نے میری ذات اور میرے اہل و عِیال کے بارے میں بات چیت شروع کی تو میں نے مسلمانوں کے مال سے جلنے والا چراغ بجھا دیا اور ذاتی چراغ روشن کردیا۔(سیرت ابن عبدالحکم،ص۱۳۳)