Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
93 - 220
 درخت کی چند پَتِّیاں(حکایت:35)
	ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں ذُوالْحِجَّۃِ الْحَرام ۱۴۲۹ھ کو  امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی بارگاہ میں حاضر تھا،آپ دامت برکاتہم العالیہ اپنے بڑے شہزادے جانشینِ عطّار حاجی ابو اُسَیدعُبید رضا عطاری المدنی مدظلہ العالی کے گھر تشریف لائے ہوئے تھے۔ آپ دامت بَرَکاتُہُم العالیہ کی نظر اپنی کم سِن نواسیوں پر پڑی کہ انہوں نے گھر کی کھڑکی کے قریب لگے درخت کی چند پتیاں توڑ لی ہیں تو تشویش کے عالَم میں مَدَنی منیوں کو احساس دلایا کہ بچو! یہ درخت پڑوسی کاہے اور آپ لوگوں نے کسی دوسرے کے درخت کے پتے توڑلئے ایسا نہیں کرنا چاہیے پھر آپ نے فرمایا: رضا(یعنی ابو اُسید حاجی عبید رضا) سے کہتا ہوں کہ وہ برابر مکان والوں سے جا کر اس سلسلے میں معافی مانگ لیں ۔
کسی کی دیوار کا سایہ لے لینا کیسا؟
	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں :جو چیز استعمال سے گھٹے نہیں وہ مالک کی بغیر اجازت استعمال کی جاسکتی ہے جیسے کسی کے چراغ کی روشنی میں مطالعہ کرلینا،کسی کی دیوار سے سایہ لے لینا ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۸/ ۱۷۷)
وقف کی چیزوں کا استعمال
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! وَقْف کی اشیاء کا بلااجازتِ شرعی استعمال بھی