مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کا کوئی مال ناحق طور پر لے ، اس لئے کہ اللہ تعالی نے مسلمان کا مال مسلمان پر حرام کیا ہے ،اوراس کو بھی حرام قرار دیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی لا ٹھی بھی اس کی خوش دِلی کے بغیر لے ۔(مجمع الزوائد،کتاب البیوع،باب الغصب۔۔۔الخ،۴/۳۰۴:رقم:۶۸۵۹۔۶۸۶۰)
خوش دلی کے بغیر دوسرے کی چیز حلال نہیں
رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:لَایَحِلُّ مَالُ امْرِیٍٔ مُّسْلِمٍ اِلَّا بِطِیْبِ نَفْسٍ مِّنْہُ ترجمہ:کسی بھی مسلمان کا کوئی مال اس کی خوش دلی کے بغیر دوسرے کے لیے حلال نہیں۔(مسند احمد،مسند البصریین،حدیث عم۔۔۔الخ،۷/۳۷۶،حدیث:۲۰۷۲۰)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یہ حدیث بہت سے اَحکام کا ماخذ ہے۔مالی جرمانے کسی کی چوری،کسی کا مال لوٹ لینا،کسی کا مال جبرًا نیلام کردینا یہ سب حرام ہے۔خیال رہے کہ دیوالیہ کا مال درحقیقت اس کے قرض خواہوں کا مال ہے اس لیے حاکم دیوالیہ کی اجازت کے بغیر نیلام کردیتا ہے۔غرضکہ بعض صورتیں اس سے مستثنٰی ہیں۔ لَاتَظْلِمُوْا کے معنی ہیں کہ غیر پر ظلم نہ کرو یا اپنے پر ظلم نہ کرو۔ (مراٰۃ المناجیح،۴/۳۱۸)
مت گناہوں پہ ہو بھائی بے باک تُو بھول مت یہ حقیقت کہ ہے خاک تُو
تھام لے دامنِ شاہِ لولاک تُو سچّی تَوبہ سے ہو جائے گا پاک تُو
(وسائلِ بخشش،ص۶۵۶)