کی قیمت خرید سے چاردرہم کم پر فروخت کرچکا ہوں‘ اب یہ دوسرا کپڑا ہے جو مجھے چار درہم میں پڑا ہے، تم4 درہم میں اسے لے لو۔ (تاریخ بغداد،۱۳/۳۵۹ )
پانچ دینار واپس کردئیے(حکایت:34)
حضر ت محمد بن مُنکَدِر رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ جلیل القدر بزرگ تھے، دکانداری کرتے تھے ۔ آپ رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے پاس کئی قسم کے کپڑے ہوتے تھے کسی کی قیمت دس دینارتو کسی کی پانچ دینار۔آپ رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی عدم موجودگی میںآپ کے شاگرد نے پانچ دینار قیمت والا کپڑا دس دینار میں ایک اَعرابی (یعنی دیہاتی)کو فروخت کردیا۔ جب آپ رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہتشریف لائے اور اس بات کا پتا چلا توسارا دن اَعرابی کو تلاش کرتے رہے۔ آخر جب وہ ملا تو فرمایا: وہ کپڑا پانچ دینار سے زیادہ قیمت کا نہیں تھا۔ اعرابی نے کہا: ہوسکتا ہے کہ میں نے بخوشی وہ کپڑا دس دینار سے خریدا ہو۔ آپ رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: جو چیزمیں اپنے لیے پسند نہیں کرتا دوسرے کسی مسلمان کے لئے بھی پسند نہیں کرتااس لئے یا تو بیع فَسْخ (یعنی ختم) کرلو یا پانچ دینار واپس لے لو یا میرے ساتھ آؤتا کہ دس دینار کی قیمت کا کپڑا دے دوں۔ اَعرابی نے پانچ دینار واپس لے لئے پھر کسی سے دریافت کیا :یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ حضرت محمد بن مُنکَدِر(رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ )ہیں تو کہنے لگا :سُبْحٰن اﷲ! یہ وہ ہستی ہیں کہ جب بارش نہیں ہوتی توہم میدان میں جا کر ان کا نام لیتے ہیں تو پانی برسنے لگتا ہے۔
(کیمیائے سعادت ، رکن دوم در معاملات ، اصل سوم ، ۱/ ۳۳۳)