Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
89 - 220
نے جمعہ تک گندم فروخت نہیں کی پھر جب بیچی تو اس میں کئی گنا فائدہ ہوا۔وکیل نے یہ واقعہ مالک کو لکھ کر بھیجا تو انہوں نے وکیل کو خط لکھا کہ اے فلاں!ہم اپنے دین کی سلامتی کے ساتھ تھوڑے نفع پر ہی قناعت کر لیا کرتے ہیں مگرتم نے اس کے خلاف کیا،ہمیں یہ پسند نہیں ہے کہ ہمیں اس سے کئی گنا نفع ہو لیکن اس کے بدلے ہمارے دین میں سے کوئی شے چلی جائے۔تم نے ہم پر ایک جرم لاگو کر دیا ہے، لہٰذا جب تمہارے پاس میرایہ خط پہنچے تو تمام مال لے کربصرہ کے فقرا پر صدقہ کر دینا شاید کہ میں ذخیرہ اندوزی کے گناہ سے برابر برابر نجات پا سکوں کہ نہ تو میرا نقصان ہو اور نہ ہی فائدہ۔
(احیاء علوم الدین،کتاب آداب الکسب،الباب الثالث،۲/۹۳)
(حکایت:33)
جتنے کا خریدا ہے اسی میں بیچ دو
	امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم  نے کبھی کسی بیچنے والے کی غفلت اور لا علمی سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ آپ ان کی بھلائی کے لیے ان کی بہترین راہنمائی فرماتے تھے۔ آپ اپنے احباب سے یا کسی غریب خریدار سے نفع بھی نہیں لیا کرتے تھے بلکہ اپنے نفع میں سے بھی اس کو دے دیا کرتے۔ایک بوڑھی عورت آپ کے پاس آئی اور اس نے کہا :( میری زیادہ استطاعت نہیں‘ اس لیے) یہ کپڑا جتنے میں آپ کو پڑا ہے اس دام پر میرے ہاتھ فروخت کردیں۔ آپ نے فرمایا :تم چار درہم میں لے لو۔ وہ بولی:میں ایک بوڑھی عورت ہوں، میرا مذاق کیوں اڑاتے ہو( کیونکہ یہ قیمت بہت کم ہے)؟ آپ نے فرمایا:میں نے دو کپڑے خریدے تھے اور ان میں سے ایک کپڑے کو دونوں