شافعِ روزِ شمارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو فرماتے سنا :غلہ روکنے والا بندہ بہت برا ہے کہ اگراللّٰہعَزَّوَجَلَّبھاؤ سستے کرے تو رنجیدہ ہو اور اگر مہنگے کرے تو خوش ۔(شعب الایمان،باب فی ان یحب المسلم۔۔۔الخِ،فصل فی ترک الاحتکار، ۷/۵۲۵، حدیث: ۱۱۲۱۵)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تکلیف پر خوش ہونا اور ان کی خوشی پر ناراض ہونا لعنتی آدمیوں کا کام ہے ،خوشی و غم میں مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہیے۔غلہ کے ناجائز بیوپاریوں کا عام حال یہ ہی ہے کہ اَرزانی سن کر ان کا دل بیٹھ جاتاہے،گِرانی(مہنگائی) کے لیے ناجائز عمل کرتے ہیں،اُلٹے وظیفے پڑھتے ہیں، لوگوں سے قحط کی دعائیں کراتے ہیں،نَعُوْذُ بِاﷲ!وقت پر بارش ہو تو ان کے گھر صفِ ماتم بچھ جاتی ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۴/۲۹۰)
(حکایت:32)
غلہ مہنگا ہونے کا انتظار کرنے والے کی تفہیم
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ واسِط کے مقام پر تھے۔ انہوں نے گندم سے بھری ایک کشتی بصرہ شہرکی طرف بھیجی اور اپنے وکیل کو لکھا:جس دن یہ کھانابصرہ پہنچے اسی دن اسے بیچ دینا اوراگلے دن تک مُوَخَّر نہ کرنا۔ اتفاقاً وہاں پر بھاؤ (Rate)کم تھا تو تاجروں نے ان کے وکیل کو مشورہ دیاکہ اگر آپ اسے جمعہ کے دن تک مُوَخَّر کریں تو اس میں دُ گنا نفع ہو گا ۔چنانچہ اس