نہ بیچے یانہ بیچنا اس کا خَلْق کو مُضِر(یعنی لوگوں کو نقصان دہ )نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں ۔(فتاوی رضویہ ،۱۷ / ۱۸۹)
ایک اور مقام پر اعلیٰ حضرت رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں :حرام یہ ہے کہ بستی میںآنے والا غلہ خود خریدلے اور بندرکھے کہ جتنا مہنگا چاہے بیچے جس سے بستی پر تنگی ہوجائے اور مکروہ یہ ہے کہ اس کے خریدنے سے بستی پر تنگی تونہ ہو مگر اسے آرزو ہو کہ قحط پڑے کہ مجھے نفع بہت ملے، اور جب ان دونوں باتوں سے پاک ہے جیسا صورت سوال میں ہے تو اصلاً کراہت بھی نہیں ۔(فتاوی رضویہ،۱۷/۱۹۲)
اِحتکار صرف غلے میں ہوتا ہے
صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویلکھتے ہیں:احتکار یعنی غلہ روکنا منع ہے اور سخت گناہ ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ گرانی کے زمانہ میں غلہ خریدلے اور اُسے بیع نہ کرے بلکہ روک رکھے کہ لوگ جب خوب پریشان ہوں گے تو خوب گراں(مہنگا) کرکے بیع کروں گااوراگر یہ صورت نہ ہو بلکہ فصل میں غلہ خریدتاہے اور رکھ چھوڑتا ہے کچھ دنوں کے بعد جب گراں ہو جاتا ہے بیچتا ہے یہ نہ اِحتکار ہے نہ اس کی ممانعت۔غلہ کے علاوہ دوسری چیزوں میں اِحتکار نہیں۔(بہار شریعت،۲/۷۲۵)
مسلمانوں کی تکلیف پر خوش ہونے والا
حضرت سیدنامعاذرضی اللّٰہ تعالٰی عنہکا بیان ہے کہ میں نے سرکارِ ابد قرار،