Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
85 - 220
 فرمانے کی وجہ وہ ہے جو آخر میں بیان ہوئی (یعنی مالداروں کو بلانا محتاجوں کو نہ بلانا) ۔  (فیض القدیر ، حرف الشین ، ۴/ ۲۰۹ ، تحت الحدیث : ۴۸۷۲)
(حکایت:31)
کپڑوں کو کھانا کھلا رہا ہوں
	بعض جگہ تو باقاعدہ حارِسین(پہرے دار) کھڑے کئے جاتے ہیں جوآنے والے مہمانوں پر نظر رکھتے ہیں لیکن ان کی توجہ بھی عموماً غریب ،سادہ اور پرانے کپڑوںمیں مَلْبُوس افراد پر ہوتی ہے ،چنانچہ وہ انہی سے پُوچھا پاچھی کرتے ہیں اور ولیمے کی دعوت کا کارڈ طلب کرتے ہیں اگر بے چارہ بُھولے سے گھر چھوڑ آیا ہوتو اسے اپنی عزت بچانا مشکل ہوجاتا ہے ،اس بات کو ایک فرضی مگر سبق آموزحکایت سے سمجھئے ،چنانچہ ایک شخص کسی دعوت میں سادہ اور پُرانے کپڑوں میں ہی چلا گیا تو دربانوں نے اسے اندر داخل نہیں ہونے دیا، وہ واپس آیا اور عالیشان لباس پہن کر جاہ وحَشَم کے ساتھ دوبارہ دعوت میں پہنچا ، دربان اسے پہچان نہ سکے اور عزت وتکریم کے ساتھ پنڈال میں پہنچادیا ، جب کھانا شروع ہوا تو سب لوگ اپنے من پسند کھانوں کے نوالے منہ میں ڈالنے لگے لیکن اس شخص نے ایک پلیٹ میں کھانا ڈالا اور اپنے کپڑوں کا سرا پکڑکر پلیٹ میں ڈبونے لگا ، میزبان حیرت کے ساتھ اس کی طرف لپکا اور پوچھا: جناب ! یہ آپ کیا کررہے ہیں ؟کھانا کھائیے ! اس شخص نے جواب دیا کہ اصل میں دعوت میری نہیں ان کپڑوں کی ہے کیونکہ میں سادہ کپڑوں میں آیا تو اندر نہیں گھسنے دیا گیا ،جب اس لباس میں آیا تو بڑی آؤبھگت ہوئی،اس لئے انہی کپڑوں