Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
84 - 220
 سبب بن سکتا ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنلکھتے ہیں:زِنْہار ،زِنْہار (یعنی خبردار ، ہر گز) ایسا نہ کریں کہ کھاتے پیتوں کو بُلائیں، محتاجوں کو چھوڑیں کہ زیادہ مستحق وہی ہیں اور انہیں اس کی حاجت ہے تو ان کا چھوڑنا انھیں اِیذا دینا اور دل دُکھانا ہے ، مسلمانوںکی دل شکنی مَعَاذَ اللّٰہ وہ بلائے عظیم ہے کہ سارے عمل کو خاک کردے گی ، ایسے کھانے کو حضور  اقدس صلی اللّٰہ  تعالٰی علیہ وسلم نے سب سے بدتر کھانا فرمایا کہ پیٹ بھرے بُلائے جائیں جنہیں پرواہ نہیں اوربُھوکے چھوڑ دئیے جائیں جو آنا چاہتے ہیں ۔(فتاوی رضویہ ، ۲۳/۱۵۸)
بدترین کھانا
	سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمان ہے : بدترین کھانا اُس دعوتِ ولیمہ کا کھانا ہے کہ جو اس میں آنا چاہتا ہے اسے روک دیا جاتاہے اورجو نہیں آنا چاہتا اسے بلایا جاتاہے ۔  (مسلم،کتاب النکاح،باب الأمربإجابۃالداعي۔۔۔الخ،ص۷۵۰،حدیث :۱۱۰)
	حضرتِ سیِّدُنا علامہ عبد الرء ُوف مَناوی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیفرماتے ہیں : ولیمے کے کھانے کو بد ترین اکثر لوگوں کی حالت دیکھ کر فرمایا ہے کہ وہ دعوتِ ولیمہ پر مالداروں کو تو بلالیتے ہیں مگر محتاجوں کو کوئی نہیں بلاتا ۔ مزید فرماتے ہیں : ولیمے کا کھانا مطلقاً بدترین نہیں ہے ، کیونکہ ولیمہ کرنے اور لوگوں کو بلانے کا تو حکم ہے،بد ترین