Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
82 - 220
ساری اولاد میں برابری کرے،بیٹے کے لیے دوگنا حصہ بعد وفات ہے، حتی کہ پیار محبت بلکہ چومنے میں بھی برابری کرے۔ (مرقات) اگرچہ قدرتی طور پر چھوٹے بچے سے زیادہ محبت ہوتی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فاطمہ زہرا (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا) بہت پیاری تھیں کہ سب سے چھوٹی تھیں۔(مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں:)خیال رہے کہ متقی بیٹے کو فاسق بیٹے سے زیادہ دینا یا غریب معذور بے د ست وپا اولاد کو دوسری امیر اولاد سے کچھ زیادہ دینا بلاکراہت دُرُست ہے۔( مراٰۃ المناجیح، ۴/۳۵۴)
یاربّ   بچا لے  تُو  مجھے   نارِ جَحیم  سے
اولاد پر بھی بلکہ جہنَّم حرام ہو
(وسائلِ بخشش،ص۳۱۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(14)بچوں کو تکلیف نہ دیجئے
	 رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: تم اپنے بچوں کو دبانے سے تکلیف نہ دو گلے آجانے میں تم قُسْط اختیار کرو۔(بخاری،کتاب الطب،باب الحجامۃ من الدائ،۴/۲۱، حدیث: ۵۶۹۶)
	مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :کبھی بچوں کے حلق میں گلٹیاں نکل آتی ہیں ا س کے علاج کے لئے عورتیں اپنی انگلی میں دوا لگا کر حلق میں انگلی ڈال کر دباتی ہیں جس سے بچوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے،خون جاری ہوجاتا ہے،میں بھی بچپن میں یہ مصیبت