Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
81 - 220
 بعض پر ترجیح نہ دے کہ کسی کو کچھ نہ دے یا کسی کو زیادہ دے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ زندگی میں لڑکی لڑکے کو برابر دے،لڑکے کا دوگنا حصہ مِیراث میں ہے نہ کہ عطیہ میں،بعض نے فرمایا کہ زندگی میں بھی لڑکے کو دوگنا دے اور لڑکی کو ایک حصہ۔ (درمختار، شامی، وغیرہ) بعض بزرگ لڑکیوں کو دوگنا دیتے ہیں کہتے ہیں کہ لڑکیاں ماں باپ کے گھر مہمان ہیں،لڑکے مقیم ۔ ( مراٰۃ المناجیح، ۴/۳۵۳)
(حکایت:30)
میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا
	بعض روایات میں ہے کہ حضرت سیدنا بشیر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے اپنے بیٹے نعمان کو ایک غلام دیا تو ان کی زوجہ حضرت سیدتنا عمرہ بنت رواحہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہانے فرمایا کہ میں اس پر راضی نہیں جب تک کہ آپ اس بات پر سرکارِ مدینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو گواہ بنالیں۔جب وہ اس مقصد کے لئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضورِ اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِستفسار فرمایا: کیا تم نے اپنے سارے بچوں کو اسی طرح دیا ہے؟ عرض کی: نہیں۔ فرمایا: اﷲسے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو،نیز ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:میں ظلم پر گواہ نہیں ہوتا۔اس پر حضرت سیدنا بشیر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے اپنے تحفے سے رجوع کرلیا۔(مشکوٰۃ،کتاب البیوع،باب: ۱۷،۱/۵۵۶،حدیث:۳۰۱۹)
	مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان تحریرفرماتے ہیں :اس حدیث کی بنا پر علماء فرماتے ہیں کہ باپ اپنی زندگی میں بیٹا بیٹی