فرمائی ہے چنانچہ حضرت سیدنا نعمان بن بشیررضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کا بیان ہے کہ میرے والد مجھے اٹھاکر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:یارسولَ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم !آپ اس بات پر گواہ ہوجائیں کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو اپنے مال میں سے فلاں فلاں چیز دی۔ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے دریافت فرمایا:کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو اتنا دیا ہے جتنا نعمان کو دیا ہے؟ میرے والد نے عرض کی: نہیں۔ ارشاد فرمایا:پھر اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بناؤ۔مزید اِستفسار فرمایا:کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہارے ساتھ نیکی کرنے میں تمہاری سب اولاد برابر ہو؟میرے والد نے عرض کی:کیوں نہیں!ارشاد فرمایا: تو پھر ایسا مت کرو۔ (مسلم،کتاب الہبات،باب کراہۃ تفضیل۔۔۔الخ،ص۸۷۹،حدیث:۱۶۲۳)
حضرتِ سیدنا ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں: بعض اہلِ علم کا عمل اس حدیثِ پاک پر ہے اور وہ (تحفہ دینے میں)اولاد کے درمیان برابری کو پسند کرتے ہیں یہاں تک کہ ایک بزرگ نے فرمایا:اولاد کے درمیان برابری کرے یہاں تک کہ بوسہ دینے میں بھی۔(ترمذی،کتاب الاحکام، باب ما جاء فی النحل۔۔۔الخ،۳/۸۲،حدیث:۱۳۷۲)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کو برابر عطیے دے،بعض کو