Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
79 - 220
 کیسا؟(مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں:) وصیت میں نقصان پہنچانے کی چند صورتیں ہیں:ایک یہ کہ اپنے وارثوں کو نقصان پہنچانے کی نیت سے وصیت کر جائے کہ تہائی مال وصیت میں نکل جائے تو وارثوں کے حصے کم ہوجائیں۔دوسرے یہ کہ نالائق اور برے لوگوں کو وصیت کرجائے،اپنا تہائی مال کسی بدمعاش کو دے جائے تاکہ وہ وارثوں کے ساتھ رہ کر انہیں تنگ کرے۔تیسرے یہ کہ پہلے وصیت کی تھی پھر مرتے وقت وصیت سے رجوع کرے یا اس میں کچھ ترمیم کرے تاکہ وصیت والے کو نقصان ہو۔’’ان کے لئے دوزخ کی آگ واجب ہوتی ہے‘‘کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں:یعنی وہ دوزخ کا مستحق ہوجاتا ہے،رہا دوزخ میں جانا یہ رب تعالیٰ کی مرضی پر ہے یہاں وجوب اِستحقاق کا ہے نہ کہ دُخول کا۔(مرقات)(مراٰۃ المناجیح، ۴/۳۸۴)
مجرموں کے واسطے دوزخ بھی شُعلہ بار ہے
ہر گنہ قصداً کیا ہے اسکا بھی اقرار ہے
                                                       (وسائلِ بخشش،ص۴۷۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(13)اولاد سے یکساں سلوک نہ رکھنا
	 جیتے جی بھی اولاد کے درمیان عد ل و انصاف کرنا چاہیے،کچھ کو دینا اور کچھ کو محروم رکھنا نہ صرف باعثِ تکلیف بن سکتا ہے بلکہ اس کے سبب بغض و کینہ اور غیبت و تہمت وغیرہ گناہوں کے دروازے کھلنے کا بھی اندیشہ ہے۔ مُعلمِ اخلاقصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ہمیں اولاد میں سے ہر ایک کے ساتھ مُساوی سلوک کرنے کی تاکید