Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
78 - 220
وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:)یعنی تم وصیت کیوں کرتے ہو ؟حصولِ ثواب کے لیے، اور میراث جو وارثوں کو پہنچے گی اگر اس میں تم رضائے الٰہی (کی) نیت کرلو کہ اپنے عزیزوں کو اپنا مال پہنچنا رب تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے تب بھی تم کو ثواب ملے گا بلکہ زیادہ ملے گا،لہٰذا وصیت تہائی سے بھی کم کی کرو۔
(مراٰۃ المناجیح،۴/۳۸۲)
	بہارِ شریعت میں ہے::شریعت نے متوفّٰی (یعنی مرنے والے) کو ورثاء کی موجودگی میں اپنے تمام مال کی وصیت کرنے کی اجازت نہیں دی کہ اس سے وارثوں کو ضَرر (یعنی نقصان)پہنچتا ہے، اور ان کا حق ضائع ہوتا ہے۔(بہار شریعت، ۳/۹۳۰)
ساٹھ سال عبادت کے باوجود دوزخ کا فیصلہ
	سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا : مردو عورت ساٹھ سال تک اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے رہیں پھر ان کا وقت موت قریب آجائے اور وصیّت میں ضرر پہنچائیں توان کے لئے دوزخ کی آگ واجب ہوتی ہے۔(ترمذی،کتاب الوصایا،باب ما جاء فی الضرارفی الوصیۃ، ۴/۴۱، حدیث: ۲۱۲۴)
	  مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یہاں ساٹھ سال سے مراد بڑی مدت ہے خواہ اس سے زیادہ ہو یا کم۔ موت آنے سے مراد موت کے علامات نمودار ہونا ہیں ورنہ خاص موت آجانے پر بولنا مشکل ہوجاتا ہے،وصیت کرنا یا وصیت میں نقصان پہنچانا