کے سال میں ا یسا بیمار ہوا کہ موت کے قریب ہوگیا۔سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّممیری عیادت کے لئے تشریف لائے تومیں نے عرض کی:یارسولَاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم !میرے پاس مال بہت ہے اور میری بیٹی کے سوا کوئی وارث نہیں ، کیا میں اپنے کل مال کی وصیت کرجاؤں ؟ سرکارِ دو عالم،نُورِ مجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: نہیں ۔میں نے عرض کی:دو تہائی مال کی، فرمایا :نہیں۔ میں نے عرض کی : آدھے کی ؟فرمایا نہیں ،میں نے عرض کی: تہائی کی؟فرمایا: تہائی کی کرو اور تہائی بھی زیادہ ہے۔ تم اپنے وارثوں کو غنی بنا کر چھوڑو تویہ اس سے اچھا ہے کہ تم انہیں فقیر کرکے جاؤ کہ لوگوں سے مانگتے پھریں ۔ تم کوئی خرچہ ایسا نہ کرو گے جس سے اﷲکی رضا چاہو مگر تمہیں اس پر ثواب دیا جائے گا حتی کہ اس نوالے پر بھی جو تم اپنی بیوی کو کھلاؤ۔
(مشکوٰۃ،کتاب الفرائض،باب الوصایا،۱/۵۶۶،حدیث:۳۰۷۱)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرنے والا مرتے وقت صرف تہائی کی وصیت کرسکتا ہے زیادہ کی نہیں اور اگر زیادہ کی کر بھی گیا تو جاری نہ ہوگی،یہ بھی معلوم ہواکہ تہائی سے بھی کم کی وصیت کرنا بہتر ہے کہ حضورِ انور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا۔یہ بھی معلوم ہورہا ہے کہ اپنے عزیزوں سے سلوک کرنا غیروں سے سلوک کرنے سے افضل ہے کہ وصیت میں غیروں سے سلوک ہے مِیراث میں اپنوں سے سلوک۔(حدیثِ پاک کے آخری جملے کی