(حکایت:28)
کھیتی کے مالک کی شکایت
ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی بارگاہ میں حاضِر ہو کر شکایت کی: میں نے کھیتی کاشت کی تھی کہ اہلِ شام کا لشکر وہاں سے گزرا اور اِسے خراب کردیا ۔ آپ نے اس کے بدلے اُسے دس ہزار دِرہم دیئے ۔ (سیرت ابن جوزی، ص۹۷)
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اسی نوعیت کی ایک حکایت کے بعد لکھتے ہیں : اُن لوگوں کو دَرس حاصِل کرنا چاہئے جو لوگوں کی دیواروں اور سیڑھیوں کے کونوں وغیرہ کو پِیک(یعنی پان کے رنگین تھوک) کی پچکاریوں سے بد نُما کردیتے ہیں، اِسی طرح بِغیر اِجازتِ مالِک مکانوں اور دُکانوں کی دیواروں اور دروازوں نیز سائن بورڈز اور گاڑیوں،بسوںوغیرہ کے باہَر یا اندراِسٹیکرز اور پوسٹر لگانے والے،دیواروں پر مالِک کی اِجازت کے بِغیر’’ چاکنگ‘‘ کرنے والے بھی دَرس حاصِل کریںکہ اس طرح کرنے سے لوگوں کے حُقُوق پامال ہوتے ہیں۔ بے شک حُقُوقُ اللّٰہ ہی عظیم تر ہیں مگرتوبہ کے تعلُّق سے حُقُوقُ الْعِباد کا مُعامَلہحُقُوقُ اللّٰہ سے سَخت تر ہے ، دنیا میں جس کسی کا حق ضائِع کیا ہواگر اُس سے مُعافی تَلافی کی ترکیب دنیا ہی میں نہ بنی ہو گی تو قِیامت کے روز اُس صاحِبِ حق کو نیکیاں دینی پڑیں گی اور اگر اس طرح بھی حق ادا نہ ہوا تو اُس کے گناہ اپنے سر لینے ہوں گے۔ مَثَلاًجس نے بِلاعُذرِ شَرعی کسی کو جھاڑا ہوگا، گُھور کر یا کسی بھی طرح ڈرایا ہوگا، دل دُکھایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا، کسی کے پیسے