الرِّضوَانسے ارشاد فرمایا : راستوں پر بیٹھنے سے بچو ! لوگوں نے عرض کی :یارسولَ ا للّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! ہم کو وہاں بیٹھنے کے سوا چارہ نہیں ، ہم وہاں بات چیت کرتے ہیں ۔ فرمایا : اگر بغیر بیٹھے نہ مانو تو راستہ کو اس کا حق دو ! انہوں نے عرض کی: یارسول َاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم !راستہ کا کیا حق ہے ؟ فرمایا : نگاہ نیچے رکھنا ، تکلیف دہ چیز ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، اچھائیوں کا حکم دینااوربرائیوں سے روکنا ۔ (بخاری ، کتاب الاستئذان ، باب بدء السلام ، ۴/ ۱۶۵ ، حدیث : ۶۲۲۹)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : راستہ سے عورتیں بچے گزرتے رہتے ہیں ، نیز وہاں سے لوگوں کے مال سواریاں گزرتی ہیں ، اس لئے وہاں بیٹھنا خطرناک بدنظری کا اندیشہ ہے ۔مزید فرماتے ہیں : راستوں پر بیٹھ کر یہ پانچ نیکیاں یا ان میں سے جس قدر بن پڑیں کیا کرو !نگاہیں نیچی رکھو تاکہ اجنبی عورتوں پر نہ پڑیں ، راستہ سے کانٹا ، اینٹ ، پتھر الگ کردیا کرو تاکہ کسی راہ گیر کو نہ چبھے نہ ٹھوکر لگے ، جو راستہ گزرنے والا تمہیں سلام کرتا ہوا گزرے اس کا جواب دو ، اگر تم راستہ میں کسی کو کوئی برا کام کرتے دیکھو تو اس سے روکو ، اس کی عوض اسے اچھے کام کرنے کا مشورہ دو ، اس صورت میں تمہارا وہاں بیٹھنا بھی عبادت ہے ۔سُبْحٰنَ اللّٰہ ! کیمیا پیتل ، تانبہ کو سونا کردیتی ہے ، حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی تعلیم گناہوں کو ثواب بنادیتی ہے ۔
(مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۳۲۲)