القوی اس حدیثِ پاک کے تحت تحریر فرماتے ہیں:ہر وہ تکلیف دہ چیز مثلاً کانٹا، شیشہ، ٹھوکر کی چیزیں جس سے چلنے والوں کواِیذا پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو راستوں سے ہٹا دینا بہت معمولی کام ہے لیکن یہ عمل اللّٰہ تعالٰی کو اِس قدر پسند ہے کہ وہ اس کی جزا میں اپنے فضل و کرم سے جنت عطا فرمادیتا ہے۔آج کل کے مسلمان اس عملِ صالح کی عظمت اوراِس کے اجروثواب سے بالکل ہی غافل ہیں بلکہ اُلٹے راستوں میں تکلیف کی چیزیں ڈال دیاکرتے ہیں۔مثلاًعام طورپرلوگ کیلاکھاکراُس کاچھلکا ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پرپھینک دیا کرتے ہیں۔گاڑی آنے پرمسافربدحواس ہوکرٹرین میں چڑھنے کے لئے دوڑتے او ر کیلے کے چھلکوں پرپاؤں پڑجانے سے پھسل کرگرجاتے ہیں اوربعض شدیدزخمی ہوجاتے ہیں، اسی طرح ہڈیاں اورشیشے کے ٹکڑے عام طورپرلوگ راستوں میں ڈال دیاکرتے ہیں۔ اِن حرکتوں سے مسلمان کو بچنا چاہیے بلکہ راستوں میں کوئی تکلیف دہ چیز اگر نظر پڑجائے تو اس کو راستوں سے ہٹا دینا چاہیے اِن شاء اللّٰہ تعالٰی اگر یہ عمل مقبول ہوگیا تو جنت ملے گی۔ واللّٰہ تعالٰی اَعْلَم (بہشت کی کنجیاں،ص۲۰۹)
عام راستے کی طرف بیت الخلا یا پرنالہ بنانا
بہار شریعت میں ہے:عام راستے کی طرف بیت الخلاء یا پرنالہ یا برج یا شہتیریا دکان وغیرہ نکالنا جائز ہے بشرطیکہ اس سے عوام کو کوئی ضَرر نہ ہو اور گزرنے والوں میں سے کوئی مانِع نہ ہو اور اگر کسی کو کوئی تکلیف ہو یا کوئی معترِض ہو تو ناجائز