Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
70 - 220
(حکایت:27)
حقوقِ عامہ کااِحساس
	حقوقِ عامہ کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ،ہمارے اَسلاف اس بارے میں بے حد محتاط ہوا کرتے تھے چنانچہ حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالیعلیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی فرماتے ہیں: ایک شخص حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے پاس(حصولِ علم کے لئے)کئی سال تک آتا جاتا رہا ،اس کے بعد آپ نے اس سے اِعراض (یعنی پہلو تہی،بے توجّہی)فرماکر کلام کرنا ترک کردیا ۔وہ آپ سے مسلسل اس تبدیلی کا سبب پوچھتا لیکن آپ جواب نہ دیتے،آخر کار آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے ارشاد فرمایا:مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے سڑک کی جانب سے اپنی دیوار کو لیپا ہے اور سڑک کے کنارے سے قدِ آدم کے برابر مٹی لی ہے حالانکہ وہ مسلمانوں کی عام گزرگاہ ہے اس لئے تم عِلْم منتقل کئے جانے کے قابل نہیں ہو۔(احیاء علوم الدین، ۵/۹۶)
مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹاؤ
	حضرتِ سیدنا ابوبَرْزَہ رضی اللّٰہ تعالی عنہفرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یارسولَاللّٰہ!مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیجئے کہ میں اس سے نفع پاؤں تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے فرمایا :اِعْزِلِ الْاَذٰی عَنْ طَرِیْقِ الْمُسْلِمِیْنیعنی مسلمانو ں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کوہٹاؤ۔(مشکاۃالمصابیح،کتاب الزکاۃ،باب فضل الصدقۃ،۱/۳۶۲،حدیث:۱۹۰۶)
	  شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مولاناعبدالمصطفٰی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ