اصل نام سے پکارنے کا مطالبہ کرتی ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(11)راستوں کو تنگ کردینا
دکان کا سامان فٹ پاتھ پر رکھ کر راہ گیروں کا راستہ بند کردینا، گھر کے آگے چبوترہ یا گٹریا پودوں کی کیاری بنا کر گلی تنگ کردینا ،دیگیں پکانے کے لئے گڑھے کھودنا،گلی میں غلط پارکنگ کرکے دیگر گاڑی والوں کو پریشان کرنا ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں ،حضرت سیدناسَہْل بن معاذ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کا بیان ہے ،میرے والدِ گرامی فرماتے ہیں کہ ہم پیارے آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ جہاد میں گئے تو لوگوں نے منزلیں تنگ کردیں اور راستہ روک لیا۔اس پر رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک آدمی کو بھیجا کہ وہ یہ اِعلان کرے:بے شک جو منزلیں تنگ کرے یا راستہ روکے تو اس کا کچھ جہاد نہیں۔(ابوداؤد،کتاب الجہاد، باب ما یؤمر۔۔۔الخ،۳/۵۸،حدیث:۲۶۲۹)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان(راستہ روک لیا )کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :اس طرح کہ بعض لوگوں نے راستہ پر اپنا سامان رکھ دیا جس سے راستہ بند ہوگیا اورگزرنے والوں کو تکلیف ہونے لگی اور بعض نے ضرورت سے زیادہ منزل پر جگہ گھیر لی جس سے ساتھیوں پرتنگی ہوگئی۔معلوم ہوا کہ ہر وقت سفروحضر میں ہرمسلمان کو اپنے ساتھیوں کے آرام کا خیال رکھنا چاہیے۔