حدیث:۷۸۲۳)اورحُمَیْرَائ(سُرخ رنگ والی) (الطبقات الکبری لابن سعد، ۸/۶۴، رقم:۴۱۲۸) اوریا عُوَیْش!(جمع الجوامع،۵/۴۴۵،حدیث:۱۶۳۸۰) ٭حضرت سیِّدَتُنازینب بنت اُمِّ سلمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کویَا زُوَیْنَب(جمع الجوامع،۵/۴۸۹، حدیث:۱۶۸۳۵) کہہ کر پُکارا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سرکار دو عالمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اس انداز میں پکارنے سے ان صحابہ کرام اورازواجِ مطہرات علیہم الرضوان کا دل خوش ہوتا تھا لیکن آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے انداز پر ہم اپنے آپ کو قیاس نہیں کرسکتے۔ چنانچہ ہمیں اس سلسلے میں بہت اِحتیاط کی ضرورت ہے کہ کہیں وہ نام جسے ہم محبت بھرا سمجھ رہے ہوں سامنے والے کو پسند نہ ہومگر وہ ادب ومروّت کی وجہ سے کچھ کہنے کی ہمت نہ رکھتا ہو اور بسااوقات ہمارا انداز دل آزاری کا بھی سبب بن سکتا ہے لہٰذا احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔
(حکایت:25)
جب’’ گلہری‘‘ بڑی ہوئی
ایک مَدَنی اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے ایک بیٹی اور بیٹے کے بعد ایک اور مَدَنی مُنّی آسیہ عطاریہ سے نوازا تو دل کی کلی کِھل اٹھی ، وہ مدنی منی جب مسکراتی تو گِلَہْری جیسی دکھائی پڑتی ، ہم نے پیار سے اسے گلہری کہنا شروع کردیا وہ بھی گلہری کے نام پر متوجہ ہوجاتی کہ مجھے آواز دی گئی ہے، جب اسے دارُالمدینہ میں داخل کروایا تو اصل نام آسیہ سے پکارنا شروع کردیا۔ اب وہ کلاس 3میں ہے ، لیکن اب کبھی اسے (آزمائشی طور پر)گلہری کہا جائے تو وہ بُرا مناتی ہے اور