Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
66 - 220
 اﷲ تعالٰی عنہم عَنِ النَّبِی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔یعنی سیِّدِ عالم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمفرماتے ہیں:تین شخص ہیں جن کا حق ہلکانہ جانے گا مگر منافِق،{ ایک} اسلام میں بُڑھاپے والا{دوسرا} عالِم {تیسرا} بادشاہِ اسلام عادِل۔( المعجم الکبیر، ۸/۲۰۲، حدیث:۷۸۱۹ ) ایساشخص شرعاً لائق تعزیر ہے۔وَاﷲُ سُبْحٰنَہٗ وَتَعَالٰی اَعْلَمُ وَعِلْمُہٗ جَلَّ مَجْدُہٗ اَتَمُّ وَاَحْکَم(فتاویٰ رضویہ، ۱۳ / ۶۴۴)
محبت بھرے نام سے پُکارا
	بَسا اوقات ہمارے میٹھے میٹھے مَدَنی آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان یا ازواجِ مطہرات رضی اللّٰہ تعالٰی عنہن کے ناموں کو مختصر یا تصغیر کرکے محبت بھرے انداز سے پکارتے،اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں: ٭حضرتِ سیِّدُناعثمان غنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو یا عُثَیْم(مسنداحمد،۱۰/۱۰۱، حدیث:۲۶۱۹۰) ٭حضرتِ سیِّدُنااَنس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو  یَا اُ نَیس ( مسلم، ص۱۲۶۴،حدیث:۲۳۰۹)اور یَا ذَا الْاُذُنَینِ (اے دو کانوں والے) (ترمذی، ۳/۳۹۹، حدیث:۱۹۹۸) ٭حضرتِ سیِّدُناجابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو یَا جُوَیْبَر(جمع الجوامع،۱۴/۲۰۸،حدیث:۱۰۱۸۹)اور یَا جُبَیر(جمع الجوامع،۱۴/۲۰۹،حدیث:۱۰۲۰۰) ٭حضرتِ سیِّدُنامقدام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکویَا قُدَیم ( ابو داوٗد، ۳/۱۸۳، حدیث:۲۹۳۳) ٭ حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صِدِّیقہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کویا عائِش (بخاری، ۲/۵۵۱، حدیث:۳۷۶۸)اورشُقَیْرَائ(گہرے بھورے رنگ والی)(جمع الجوامع،۳/۱۳۵،