کرتے ہیں۔(جمع الجوامع،۷/۲۳،حدیث:۲۰۶۱۲)یعنی کسی بُرے لقب سے جو اُسے برا لگے نہ کہ اے بندۂ خدا !وغیرہ سے۔ (التیسیر بشرح الجامع الصغیر، حرف المیم، ۲/۴۱۶)
کسی کو بے وقوف یا اُلّو کہنے کا حُکْم
میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے سوال ہوا:جو شخص کسی عالِم کی نسبت یا کسی دوسرے کی لفظ مَردُود کہے یا یوں کہے کہ وہ’’ بیوقوف‘‘ ہے ،کچھ نہیں جانتا اور’’ اُلّو‘‘ ہے، تو اس شخص کی نسبت شَرع شریف کیا حُکْم دے گی؟اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جوابدیا : بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو ایسے الفاظ سے یادکرنا مسلمان کو ناحق اِیذا دینا ہے اور مسلمان کی ناحق اِیذا شرعاً حرام۔ رسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں:مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذانِیْ فَقَدْ اٰذَی اﷲ۔رَوَاہُ الطَّبَرَانِیْ فیِ الْاَوْسَطِ عَنْ اَنَسٍ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بِسَنَدٍ حَسَنٍجس نے بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو اِیذادی اس نے مجھے اِیذادی اور جس نے مجھے اِیذادی اس نے اﷲعَزَّوَجَلَّ کو ایذا دی۔(المعجم الاوسط،۲/۳۸۶،حدیث:۳۶۰۷)پھر علمائے دین متین کی شان تو نہایت اَرفع واعلیٰ ہے ان کی جناب میں گستاخی کرنے والے کو حدیث میں منافق فرمایا:ثَلٰثَۃٌ لَایَسْتَخِفُّ بِحَقِّھِمْ اِلَّامُنَافِقٌ ذُوالشَّیْبَۃِ فِی الْاِسْلَامِ وَذُوالْعِلْمِ وَاِمَامٌ مُقْسِطٌ رَوَاہُ الطَّبَرَانِیْ فیِ الْکَبِیْرِعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ وَاَبُوالشَّیْخِ فیِ التَّوْبِیْخِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاﷲ رضی