(10)نام بگاڑنا
اصل نام پکارنے کے بجائے نامناسب ناموں مثلاً لمبو! کالُو!موٹُو!وغیرہ کہہ کر بلانا بھی سامنے والے کو تکلیف دے سکتا ہے ، میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفتاویٰ رضویہ جلد23صفحہ 204پر لکھتے ہیں:کسی مسلمان بلکہ کافر ذِمّی کو بھی بلاحاجتِ شرعیہ ایسے الفاظ سے پکارنا یا تعبیر کرنا جس سے اس کی دل شکنی ہو، اُسے ایذاء پہنچے، شرعا ناجائز وحرام ہے۔ اگر چہ بات فِیْ نَفْسِہٖ سچی ہو، فَاِنَّ کُلَّ حَقٍّ صِدْقٌ وَلَیْسَ کُلُّ صِدْقٍ حَقًّا (ہر حق سچ ہے مگر ہر سچ حق نہیں)(فتاویٰ رضویہ ۲۳/۲۰۴)لہٰذاجس کا جونام ہو اس کو اُسی نام سے پکارنا چاہئے ،اپنی طرف سے کسی کا اُلٹا سیدھا نام مثلاً لمبو، ٹھنگو،کالو وغیرہ نہ رکھا جائے ،عُمُوماً اس طرح کے ناموں سے دل آزاری ہوتی ہے اور وہ اس سے چِڑتا بھی ہے لیکن پکارنے والا جان بوجھ کر بار بار مزہ لینے کے لئے اسے اسی نام سے پکارتا ہے ،ایسا کرنے والوں کو سنبھل جانا چاہئے کیونکہ رب تعالیٰ فرماتاہے :
وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقٰبِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوۡقُ بَعْدَ الْاِیۡمٰنِ ۚ (پ۲۶، الحجرات:۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اورایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں :(یعنی وہ نام)جو انہیں ناگوار معلوم ہوں ۔