وہ گھبرا گئے (یعنی اس سونے والے کے پاس رسی تھی یا اس جانے والے کے پاس تھی اس نے یہ رسی سانپ کی طرح اس پر ڈالی وہ سونے والے اسے سانپ سمجھ کر ڈر گئے اور لوگ ہنس پڑے۔۱؎ )تو سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ دوسرے مسلمان کو ڈرائے ۔ (ابوداوٗد،کتاب الادب،باب من یاخذ الشیء من مزاح،۴/۳۹۱، حدیث: ۵۰۰۴)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :جب رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم نے یہ سنا تو یہ فرمایا،اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ ہنسی مذاق میں کسی کو ڈرانا جائز نہیں کہ کبھی اس سے ڈرنے والا مرجاتا ہے یا بیمار پڑ جاتا ہے،خوش طبعی وہ چاہیے جس سے سب کا دل خوش ہوجائے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسی دل لگی ہنسی کسی سے کرنی جس سے اس کو تکلیف پہنچے مثلًا کسی کو بے وقوف بنانا، اس کے چَپت لگانا وغیرہ حرام ہے۔(مراٰۃ المناجیح ،۵/۲۷۰)
بھائیوں کا دل دُکھانا چھوڑ دو
اور تمسخر بھی اُڑانا چھوڑدو
اپریل فُول
اپریل فُول دوسروں کے ساتھ عملی مذاق کرنے اور بے وقوف بنانے کانام