مزاح اورسُخرِیہ میں فرق
مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّانلکھتے ہیں : ایسی بات جس سے اپنا اور سننے والے کا دل خوش ہوجائے مِزاح ہے اور جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچے جیسے کسی کا مذاق اڑانا سُخْرِیَّہ ہے ۔ مِزاح اچھی چیز ہے ، سُخْرِیَّہ بری بات ہے ۔(مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۴۹۳)
لوگوں کا مذاق اُڑانے والے کا انجام
سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : بلا شُبہ لوگوں کا مذاق اُڑانے والے کے لئے جنت کا دروازہ کھول کر اسے بلایا جائے گا:آؤ !قریب آؤ،جب وہ آئے گا دروازہ بند کر دیا جائے گا ،اسی طرح کئی بار کیا جائے گا یہاں تک کہ جب اس کے لئے پھر دروازہ کھول کر اسے بلایاجائے گا:آؤ ! آؤ! قریب آؤ! تو وہ نااُمیدی اور مایوسی کے مارے نہیں آئیگا۔
(شعب الایمان،۵/۳۱۰، حدیث: ۶۷۵۷)
(حکایت:22)
مذاق میں بھی ڈرانے سے روکا
حضرتِ سیِّدُناابنِ ابی لیلی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہفرماتے ہیں : صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان کابیان ہے کہ وہ حضرات رسول ُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم کے ساتھ سفر میں تھے ،اس دوران ان میں سے ایک صحابی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سو گئے تو ایک دوسرے صحابی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہان کے پاس رکھی اپنی ایک رسی لینے گئے ، جس سے