رہی ہے بلکہ اگر کوئی ہمت کرکے اپنا صدمہ بیان کردے تو اُسے بُرا بھلا کہا جاتا ہے کہ ’’ہماری اتنی سی بات بھی تم سے برداشت نہیں ہوئی!‘‘ ،یاد رکھئے!کسی مسلمان کو مذاق میں بھی تکلیف پہنچانے سے منع کیا گیا ہے چنانچہ حضرت سیدناعبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے کہ سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:لَا تُمَارِ أَخَاکَ وَلَا تُمَازِحْہُ وَ لَاتَعِدْہُ مَوْعِدَۃً فَتُخْلِفَہُ اپنے بھائی سے نہ تو جھگڑا کرو ،نہ اس کا مذاق اڑاؤاور نہ ہی اس سے کوئی ایسا وعدہ کرو جس کی خلاف ورزی کرو۔ (ترمذی،کتاب البر والصلۃ،باب ما جاء فی المراء، ۳/۴۰۰، حدیث:۲۰۰۲)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : آپس کا مذاق جس سے ہر ایک کا دل خوش ہو یہ چند شرطوں سے جائز ہے جیساکہ عرض کیا جاچکا ہے مگر کسی کا مذاق اُڑانا جس سے سامنے والے کو تکلیف پہنچے بہرحال حرام ہے وہ ہی یہاں مرادہے کیونکہ مسلمان کو اِیذاء دینا حرام ہے۔’’ نہ ایسا وعدہ کرو جس کی خلاف ورزی کرو‘‘کے تحت مفتی صاحب فرماتے ہیں:یہاں وعدے سے وہ وعدہ مراد ہے جو جائز ہو،بعض فقہاء کے نزدیک ایساوعدہ پوراکرنا واجب ہے،اکثر کے ہاں مستحب ہے اگر وعدہ کے وقت اِنْ شَآءَ اللہکہہ دیاجائے تو سب کے نزدیک اس کا پوراکرنا مستحب ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۶/۵۰۱)