(حکایت:21)
پڑوسیوں کے لئے بھی گوشت خریدتے تھے
حضرتِ سیِّدُنا فقیہ مَہْدی بن یحییٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : ہم نے ہمیشہ صوفی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو عبد اللّٰہ محمد عَرَبی فِشْتالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیکے پڑوسیوں سے اُن کی تعریفیں ہی سنی ہیں ، آپ کے پڑوسی بہت اچھے الفاظ سے آپ کو یاد کرتے تھے ۔ پڑوسیوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِجب بھی گھر والوں کے لئے گوشت خریدتے تو پڑوسیوں کے لئے بھی خریدتے اور فرماتے تھے : میں اکیلا گوشت پکا کر اپنے پڑوسیوں کو محروم نہیں چھوڑ سکتا ۔ (الابریز ، مقدمۃ المؤلف ، الفصل الاول ، ۱/ ۴۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(9) تکلیف دینے والا مذاق نہ کیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی کی ڈور بیل(Door Bell) بجا کر بھاگ جانا، سونے والوں کی چارپائی دوسری جگہ رکھ دینا،کسی کو کمرے یا باتھ روم میں بند کردینا،بہروپ دھارکر ڈراؤنی شکل بنا کر کسی کو ڈرانا،واش روم کا پانی بند کردینا،دوستوں کی مَنڈلیوں میں ، رشتے داروں کے جھرمٹ میں کسی کا مذاق اُڑا کر،اس پر فقرے کس کر،کسی کے سر پر اچانک چَپت لگا کر ، یا بیٹھنے والے کے نیچے سے کرسی کھینچ کر اس پر ہنسنے بلکہ قہقہے لگانے کو زِندہ دِلی قرار دیا جاتا ہے ،لیکن اس طرف کسی کا مشکل ہی دھیان جاتا ہے کہ جس کا مذاق اُڑایا گیا اس کے دل پر کیا گزر