Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
54 - 220
 ہیں : اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ معمولی سالن بھی پڑوسیوں کو بھیجتے رہنا چاہیے ، کیونکہ سرکار (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے یہاں شوربہ فرمایا گوشت کا ہو یا کسی اور چیزکا ۔ دوسرے یہ کہ ہر پڑوسی کو ہدیہ دینا چاہیے ، قریب ہو یا دور ، اگرچہ قریب کا حق زیادہ ہے ۔ تیسرے یہ کہ ہمیشہ لذت پر اُلفت اور محبت کو ترجیح دینا چاہیے ، کیونکہ جب شوربے میں فقط پانی پڑے گا تو مزہ کم ہوجائے گا ، لیکن اس کے ذریعہ پڑوسیوں سے تعلقات زیادہ ہوجائیں گے ، اسی لیے ’’مَاءَہَا‘‘ فرمایا ، یعنی صرف پانی ہی بڑھا دو ! اگرچہ گھی اور مصالحہ نہ بڑھاسکو۔ (مراٰۃ المناجیح، ۳ /۱۲۱)
	حضرتِ سیِّدُنا علامہ عبد الرَّء ُوف مَناوی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاس حدیث کے تحت نقل فرماتے ہیں : اس حدیث میں فقراء اور پڑوسیوں پر وسعت کرنے کی خاطر کھانے کا شوربہ بڑھالینے کا اِستحباب موجود ہے ،شوربہ میں گوشت والی قوت موجود ہوتی ہے کیونکہ شوربہ میں گوشت کو جوش دینے سے اس کی خاصیت شوربے میں آجاتی ہے ۔ اس حدیث میں پکے ہوئے گوشت کے بُھنے ہوئے گوشت سے افضل ہونے کا بھی ثبوت موجود ہے کہ پکا ہونے کی صورت میں سب کو فائدہ ہوگا ، کیونکہ گھر والے اور پڑوسی سب کھا سکیں گے ،پھریہ کہ اس میں ثَرید بھی بنائی جاسکے گی جو کہ سب سے افضل کھانا ہے ،مزید اس حدیث میں پڑوسی پر احسان کرنے اور اپنے کھانے میں سے کچھ پڑوسیوں کے لئے الگ کرنے کا بھی اِستحباب موجود ہے ۔  (فیض القدیر ، حرف الہمزۃ ، ۱ / ۵۱۰ ، تحت الحدیث : ۷۴۱)