اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:کیا تم جانتے ہو پڑوسی کا حق کیا ہے؟اگر وہ تم سے مدد مانگے تو اس کی مدد کرو،قرض مانگے تو قرض دو،اگر وہ محتاج ہو تو اسے کچھ دو،بیمار ہو تو عیادت کرو،مرجائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ،اسے کوئی خوشی حاصل ہو تو مبارک باد دو،مصیبت پہنچے تو تعزیت کرو،بلا اجازت اس کے مکان سے اونچا مکان بنا کراس کی ہوا نہ روک دو،اگر تم پھل خریدو تو تحفۃً اسے بھی دو اور اگر ایسا نہ کرو تو پھرپوشیدہ طور پر لاؤ اور تمہارے بچے انہیں لے کر باہر نہ نکلیں کہ پڑوسی کے بچوںکو رنج پہنچے گا۔اپنی ہانڈی کے دھوئیں سے اسے تکلیف نہ پہنچاؤ مگر یہ کہ اسے بھی کچھ نہ کچھ بھجوادو۔کیا تم جانتے ہو پڑوسی کا حق کیا ہے؟اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!پڑوسی کا حق وہی شخص ادا کرسکتا ہے جس پراللّٰہعَزَّوَجَلَّ رحم فرمائے۔(مرقات،۸/۶۹،تحت الحدیث:۴۲۴۳)
پڑوسیوں کی خاطر شوربہ زیادہ پکالو
حدیث پاک میں پڑوسیوں سے خیرخواہی کرنے کی ترغیب آئی ہے چنانچہ حضرتِ سیِّدُناابو ذَرّ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ، رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا : اے ابو ذَر! جب شوربہ پکاؤ تو اس کا پانی زیادہ کرو ! اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو ۔
(مسلم ، کتاب البر والصلۃ ، باب الوصیۃ بالجار۔۔۔الخ ، ص ۱۴۱۳ ،حدیث : ۲۶۲۵)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان لکھتے