پڑوسیوں کو تکلیف دینے کی مختلف صورتیں
٭اس کے دروازے کے سامنے کچرا ڈال دینا٭ اس کے دروازے کے پاس شور کرنا٭ بچوں کا (بالخصوص سونے کے اوقات میں ) شور کرنا٭ وقت بے وقت کیل وغیرہ ٹھونکنا ٭دیوار میں سوراخ کرنے کے لئے ڈرل مشین چلانا٭ مصالحہ وغیرہ پیسنے کے لئے رات کے اوقات میں آواز دینے والا گرینڈر (Grinder) چلانا٭اس کے گھر میں جھانکنا ٭ ایک ہی بلڈنگ میں رہنے کی صورت میں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے زور زور سے پاؤں چٹخانا ٭اونچی آواز سے ٹیپ ریکارڈر یا ڈیک وغیرہ بجانا(چاہے نعتیں ہی کیوں نہ چلائیںاس کی آواز اپنے تک محدود رکھئے ) ٭اپنے گھر کا فرش دھونے کے بعد پانی پڑوسیوں کے گھر کے سامنے چھوڑ دینا ٭ان کے بچوں کو جھاڑنا ، مارنا۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہمیں ان تمام باتوں سے بچائے ،
اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
مسئلہ :مکان خریدا اور اُس میں چمڑا پکاتا ہے یا اُس کو چمڑے کا گودام بنایا ہے جس سے پڑوسیوں کو اذیت ہوتی ہے اگر وقتی طور پر ہے یہ مصیبت برداشت کی جاسکتی ہے اور اس کا سلسلہ برابر جاری ہے تو اس کام سے وہاں روکا جائے گا۔ (بہار شریعت، ۲/۸۱۴)
پڑوسی کے حقوق
حضرت علامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباری نقل کرتے ہیں:فرمانِ مصطفیصلَّی