40گھر پڑوس میں داخل ہیں
دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی:یارسولَاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں نے فلاں قبیلے کے محلے میں رہائش اختیار کی ہے لیکن ان میں سے جو مجھے سب سے زیادہ تکلیف دیتا ہے وہ میرا سب سے زیادہ قریبی پڑوسی ہے۔سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق، حضرت سیدنا عمر فاروق اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰرضی اللّٰہ تعالٰی عنہمکوبھیجا، وہ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر پُکارنے لگے : بے شک چالیس گھرپڑوس میں داخل ہیں اور جس کے شر سے اس کا پڑوسی خوفزدہ ہو وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔(المعجم الکبیر،۱۹/۷۳، حدیث: ۱۴۳ )
(حکایت:20)
ہمسائے کی بکری کو بھی تکلیف نہ دو
اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا اُمِّ سلمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ ایک دن ہمسائے کی بکری گھر میں داخل ہوگئی۔ جب اس نے روٹی اٹھائی تو میں اسکی طرف گئی اورروٹی کو اس کے جبڑے سے کھینچ لیا ۔یہ دیکھ کر حضوررحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیہ وَالہٖ وَسلَّمنے ارشاد فرمایا:تجھے اس کو تکلیف دینا اَمان نہ دے گا کیونکہ یہ بھی ہمسائے کو تکلیف دینے سے کچھ کم نہیں ۔ (مکارم الاخلاق للطبرانی ، ص ۳۹۵ ، حدیث : ۲۳۹ملتقطاً)