وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جس کی برائیوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ رہے۔
(بخاری،کتاب الادب،باب اثم من لایامن جارہ بوائقہ،۴/۱۰۴،حدیث:۶۰۱۶)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : تین بار فرمانا تاکید کے لئے ہے ، ’’لَا یُؤْمِنُ‘‘ میں کمالِ ایمان کی نفی ہے ، یعنی مؤمنِ کامل نہیں ہوسکتا ، نہیں ہوسکتا ، نہیں ہوسکتا ۔حضور انور صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم نے اس کی وضاحت پہلے ہی نہ فرمادی ، بلکہ سائل کے پوچھنے پر بتایا ، تاکہ سننے والوں کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے ، جو بات انتظار اورپوچھ گچھ کے بعد معلوم ہو وہ بہت دلنشین ہوتی ہے ، اگرچہ ہر مسلمان کو اپنی شَر سے بچانا ضروری ہے مگر پڑوسی کو بچانا نہایت ہی ضروری کہ اس سے ہر وقت کام رہتا ہے ، وہ ہمارے اچھے اخلاق کا زیادہ مستحق ہے ۔
(مراٰۃ المناجیح، ۶/ ۵۵۵)
(حکایت:19)
تم ہمارے ساتھ نہ بیٹھو
رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم ایک غزوہ پرتشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا:آج وہ شخص ہمارے ساتھ نہ بیٹھے جس نے اپنے پڑوسی کو اِیذا دی ہو۔ ایک شخص نے عرض کی: میں نے اپنے پڑوسی کی دیوار کے نیچے پیشاب کیا تھا۔ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: آج تم ہمارے ساتھ نہ بیٹھو۔(المعجم الاوسط، ۶/۴۸۱،حدیث:۹۴۷۹)