Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
49 - 220
	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یعنی اس کو تکلیف دینے کے لیے کوئی کام نہ کرے ، (مزید فرماتے ہیں:)کہا جاتا ہے : ہمسایا اور ماں جایا برابر ہونے چاہئیں ۔ افسوس ! مسلمان یہ باتیں بھول گئے۔ قرآن کریم میں پڑوسی کے حقوق کا ذکر فرمایا ، بہرحال پڑوسی کے حقوق بہت ہیں ، ان کے ادا کی توفیق رب تعالیٰ سے مانگئے ۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۶/۵۳)
	حضرتِ سیِّدُنا علّامہ علی قاری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الباریاس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : پڑوسی کی حاجت پوری کرنے کے لئے اس کی مدد کرے ، اس سے برائی دور کرے، اور اس پر خصوصی عطائیں کرے ، تاکہ وعید کا مستحق نہ ہو ۔ مزید فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا قاضی عیاض رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکا فرمان ہے : جو شریعتِ اسلامیہ کا اِلتزام کرنا چاہے اس کے لئے پڑوسی اور مہمان کا اِکرام اور ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا بھی لازم ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الاطعمۃ ، باب الضیافۃ ، ۸/ ۶۹ ، تحت الحدیث : ۴۲۴۳)
وہ ایمان والا نہیں ہوسکتا 
	سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم!وہ مؤمن نہیں،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!وہ ایمان والا نہیں،اللّٰہ َزَّوَجَلَّ کی قسم!وہ مؤمن نہیں ہو سکتا۔صحابہ کرام علیہم الرضواننے عرض کی:یارسول َاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم !وہ کون ہے؟ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ