فرمایا:جس نے اپنے بھائی کا خط بغیر اس کی اجازت کے دیکھا اس نے جہنم میں دیکھا۔
(ابوداؤد، کتاب الوتر،باب الدعا،۲/۱۱۱،حدیث:۱۴۸۵)
شارحِ بخاری حضرت علامہ مولانامحمود بن احمد بدرالدین عینی حنفیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی اس حدیثِ پاک کے تحت تحریر فرماتے ہیں:بعض اہلِ علم کا قول ہے کہ اس حدیث میں وہ خط مراد ہے جس میں کسی کا راز یا امانت موجود ہو اور صاحبِ راز اس پر کسی کے مُطّلِع ہونے کو ناپسند کرتا ہو،علمِ دین پر مشتمل کتاب یا خط مراد نہیں کیونکہ اسے دیکھنے سے منع کرنا اور چھپانا جائز نہیں ہے۔جبکہ ایک قول کے مطابق یہ فرمان ہر کتاب(یعنی لکھی ہوئی چیز) کو عام ہے کیونکہ چیز کا مالک اس کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔(شرح ابوداوٗد للعینی، ۵/۴۰۰،تحت الحدیث:۱۴۵۵)
’’اس نے جہنم میں دیکھا‘‘کے تحت علامہ ابن اثیر جزریعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویلکھتے ہیں:یہ ایک مثال ہے یعنی جس طرح انسان آگ سے بچتا ہے اسی طرح اس فعل سے بچنا چاہیے۔ایک قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ وہ ایسی چیز کو دیکھتا ہے جو اس پر دوزخ کی آگ لازم کرتی ہے۔ایک اِحتمال اس معنی کا بھی ہے کہ ایسا کرنے والے کی آنکھوں کو سزا دی جائے گی کیونکہ ان کے ذریعے جرم کا اِرتکاب کیا گیا جیسا کہ اگر کسی کی ناپسندیدگی کے باوجود اس کی گفتگو سنی جائے تو سننے والے کے کانوں کو سزا دی جائے گی۔
(النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، ۴/۱۲۸)
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان