Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
44 - 220
 سے تکلیف ہو۔(مراٰۃ المناجیح،۲/۴۳۳)حضرت علامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباری لکھتے ہیں:جس وقت یہ گمان ہوکہ مریض اس شخص کے زیادہ بیٹھنے کو ترجیح دیتا ہے ، مثلاً : وہ اس کا دوست یا کوئی بُزُرگ ہے یا وہ اس میں اپنی مصلحت سمجھتا ہے ،اسی طر ح کوئی اور فائدہ ہو تو اس وقت مریض کے پاس زیادہ دیر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں۔(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الجنائز،۴/۶۰،تحت الحدیث:۱۵۹۱)
	اس حدیث پاک کے تحت حضرت علامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباری نے چار سبق آموز مختصر حکایات نقل کی ہیں، چنانچہ 
(حکایت:15)
(۱)انہیں مریض کی عیادت کرنا سکھا
	 منقول ہے کہ بعض لوگ مر ض الموت میں حضرتِ سیِّدُناسَری سقطی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی کی عیادت کو گئے اورکافی دیر وہاں بیٹھے رہے ،وہ پیٹ کی تکلیف میں مبتلا تھے ، لوگوں نے ان سے کہا : آپ ہمارے لئے دعا فرمائیے تاکہ ہم واپس جائیں ، حضرتِ سیِّدُناسَری سقطی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوینے کہا:اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ!انہیں مریض کی عیادت کرناسکھا ۔
(حکایت:16)
(۲)دروازہ بند کردو 
	ایک شخص مریض کی عیاد ت کو گیا اور کافی دیر بیٹھا رہاتو مریض نے کہا: لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے ہمیں تکلیف ہوئی ہے ، وہ آدمی کہنے لگا ،میں اٹھ کر دروازہ بند کر دوں ؟ مریض نے کہا: ہاں!لیکن باہر سے ۔