اوپر(دوسرے کو) ترجیح دے، تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بخش دیتا ہے۔‘‘ (اِتحافُ السّادَۃ المتقین،۹/۷۷۹)
ہمیں بھوکا رہنے کا اَوروں کی خاطر
عطا کر دے جذبہ عطا یا الٰہی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(6)مریض کو تکلیف نہ دیجئے
بیمار کی عیادت کرنا کارِ ثواب ہے لیکن بعض اوقات عیادت کرنے والے مریض کے لئے راحت کے بجائے زحمت کا باعث بن جاتے ہیں۔بلاضرورت مرض کی تفصیل پوچھنا، طِبّی معاملات سے لاعِلْم ہوتے ہوئے بھی اسے طرح طرح کے مشورے دینا اور دیگر فضول سوالات کرنا مریض کے لئے کوفت کا سبب بن جاتے ہیں، بہر حال عیادت کرنے میں مریض کی کیفیت کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اگر یہ محسوس ہو کہ ہماری موجودگی مریض کے لئے تکلیف کا سبب ہے تو جلد وہاں سے روانہ ہوجانا چاہیے۔فرمانِ مصطفی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہے: اَفْضَلُ الْعِیَادَۃِ سُرْعَۃُ الْقِیَامبہترین عیادت جلد اُٹھ جانا ہے ۔ (شعب الایمان،باب فی عیادۃ المریض، فصل فی آداب العیادۃ،۶/۵۴۲، حدیث: ۹۲۲۱)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یہ تمام اس صورت میں ہے جب بیمار کو اس کے بیٹھنے