Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
42 - 220
 دیاگیا ، سب کے سب مہمان اندھیرے ہی میں دَسترخوان پر بیٹھ گئے ، جب کچھ دیر بعد یہ سوچ کر کہ سب کھاچکے ہونگے چَراغ لایاگیا تو تمام ٹکڑے جُوں کے تُوں موجود تھے ۔ ایثار کے جذبے کے تحت ایک لقمہ بھی کسی نے نہ کھایا تھاکیونکہ ہر ایک کی یِہی مَدَنی سوچ تھی کہ میں نہ کھاؤں تاکہ ساتھ والے اسلامی بھائی کا پیٹ بھر جائے ۔ (اِتحافُ السّادَۃ المتقین،۹/ ۷۸۳ )
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اپنی ضَرورت کی چیز دے دینے کی فضیلت
	شیخِ طریقت امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’مدینے کی مچھلی‘‘ میں اس حکایت کو نقل کرنے کے بعد صفحہ 26پرلکھتے ہیں: اللّٰہ! اللّٰہ !ہمارے اَسلاف کا جذبۂ ایثار کس قَدَر حیرت ناک تھا اور آہ! آج ہمارا جذبۂ حِرص وطَمع کہ جب کسی دعوت میں ہوں اورکھانا شروع کیا جائے تو’’کھاؤں کھاؤں‘‘ کرتے کھانے پر ایسے ٹوٹ پڑیں کہ’’کھانا اور چبانا‘‘بھول کر’’نگلنا اور پیٹ میں لڑھکانا‘‘ شروع کر دیں کہ کہیں ایسانہ ہوکہ ہمارا دوسرا اسلامی بھائی تو کھانے میں کا میا ب ہو جائے اور ہم رہ جائیں! ہماری حرص کی کیفیت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ ہم سے بن پڑے تو شاید دوسرے کے منہ سے نوالہ(نِ۔والہ) بھی چھین کرنگل جائیں! کاش!ہم بھی ’’اِیثار‘‘ کرنا سیکھیں۔ سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ بخشِش نشان ہے: ’’جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اُس خواہش کو روک کر  اپنے