شارحِ بُخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویاس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :جب چند آدمی بیٹھ کر کھانا کھارہے ہوں تو یہ سخت مَعیوب اور ناپسندیدہ ہے کہ اگر کوئی خاص چیز سب کے کھانے کے لئے آئی ہو تو کوئی شخص زیادہ مقدار میں کھائے ۔اس کی ایک صورت یہ ہے مثلاً کھجوریں ہیں،سب لوگ ایک ایک کھارہے ہوں اور کوئی شخص دو یا دو سے زائد کھارہا ہے ،یہ کھانے والے کی حرص،تنگ دلی ،دون ہمتی کے ساتھ ساتھ دوسرے شرکاء کو ایذاء پہنچانا ہے اس لئے حدیث میں اس سے ممانعت فرمائی گئی اور یہاں اس حدیث میں خصوصی وجہ یہ تھی کہ حضرت عبداللّٰہ بن زبیر(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما) نے یہ کھجوریں سب شرکاء کے لئے بھیجی تھیں صرف کھانے کے لئے اور ملکیت حضرت عبداللّٰہ بن زبیر(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما)کی تھی۔دوسرے کی مِلک میں اس کی مرضی کے خلاف تصرُّف سخت معیوب ہے۔انہوں نے اس مقصد سے بھیجا تھا کہ اسے سب لوگ بقدرِ ضرورت اور حصہ رسدی کھائیں اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ ایک شخص دونا(یعنی ڈبل) کھالے،ہاں اگر کھانا اپنی ملک ہو تو اختیار ہے آدمی جیسے چاہے کھائے۔ (نزھۃ القاری،۳/۶۷۳)
(حکایت:14)
انوکھا دسترخوان
حضرتِ سیِّدُناشیخ ابوالحسن انطاکی علیہ رحمۃُ اللّٰہ الباقی کے پاس ایک بار بَہُت سے مہمان تشریف لے آئے۔ رات جب کھانے کا وَقت آیا تو روٹیاں کم تھیں ، چُنانچِہ روٹیوں کے ٹکڑے کر کے دَسترخوان پر ڈالدئیے گئے اوروہاں سے چَراغ اُٹھا