Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
39 - 220
اپنے ایک ساتھی سے نفس کے لالچ و حرص میں مبتلا ہونے کے متعلق یہ حکایت سنی، اس نے بتایا کہ ایک بزرگ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے اپنے ایک پڑوسی سے ایک بُھنا ہوا اونٹ خریدا اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کی دعوت کی۔ جب انہوں نے اپنا ہاتھ کھانے کے لئے بڑھایا اور ایک لقمہ اٹھا کر منہ میں رکھا تو فوراً ہی باہر پھینک دیا اور اس کے بعد کھانے سے الگ ہوتے ہوئے کہنے لگے کہ تم سب کھاؤ ! مجھے ایک ایسی تکلیف ہے جو مجھے کھانے سے روک رہی ہے۔ ہم نے عرض کی : اگر آپ نہیں کھائیں گے تو ہم بھی نہیں کھائیں گے۔ تو انہوں نے فرمایا : تم جوبہتر سمجھو، بہرحال میں نہیں کھاؤں گا۔ اس کے بعد وہ وہاں سے چل دیئے اور ہم نے ان کے بغیر کھانا کھانا پسند نہ کیا۔ پھر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ہمیں اونٹ بُھوننے والے کو بلا کر اس اُونٹ کی حقیقت کے متعلق پوچھنا چاہئے، ممکن ہے ناپسندیدگی کی کوئی وجہ ہو۔ چنانچہ ہم نے بھوننے والے کو بلایا اور اس سے مسلسل اور بار بار پوچھتے رہے تو آخر اس نے اِقرار کرتے ہوئے بتایا : یہ اُونٹ مُردہ تھا اور میرا نفس اس مردہ اونٹ کو بیچ کر قیمت حاصل کرنے کے لالچ میں مبتلا ہو گیا، پس میں نے اسے بھون لیا اور اتفاق سے تم لوگوں نے اسے خرید لیا۔ یہ سن کر ہم نے وہ اونٹ ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتوں کو کھلا دیا۔ پھر جب میں کافی دنوں کے بعد اُس بزرگ سے ملا تو عرض کی : کس وجہ سے آپ نے اُونٹ کا گوشت کھانا چھوڑا تھا اور کیا عارضہ لاحق ہوا تھا؟ تو انہوں نے بتایا: 20سال تک میرے نفس نے کسی کھانے کا لالچ نہ کیا ، لیکن جب تم لوگوں