Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
38 - 220
 ایک مرتبہ آپ اور آپ کے اصحاب کئی دن تک بھوکے رہے،پھر اسکندریہ کے ایک عادِل شخص نے ان کے لئے کھانا بھیجا۔آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اپنے اصحاب کو وہ کھانا کھانے سے منع کردیا اور ان حضرات نے بھوکے پیٹ رات گزاری ،جب صبح ہوئی تو ارشاد فرمایا:اس کھانے کو کھالو،آج رات مجھ سے کہا گیا:حلال کو حلال ہی جانو جب تک تمہارے دل میں کوئی خیال نہ آئے اور تم کسی مرد یا عورت سے اس کے بارے میں نہ پوچھ لو۔(فیض القدیر ،۱/۳۷۳)
(حکایت:12)
یہ حرام ہے 
	حضرت سیدنا یاقُوت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے میرے سامنے کھانا رکھا اور اسے کھانے پر اِصرار کیا۔میں نے اس کھانے پر ظُلمت (یعنی تاریکی) دیکھی تو کہا:’’یہ حرام ہے‘‘ اور نہیں کھایا۔پھر میں حضرت سیدنا مُرْسِی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ارشاد فرمایا:مریدین کی جہالت میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ان کے سامنے کھانا رکھا جائے اور وہ اس کھانے پرتاریکی دیکھیں تو کہتے ہیں:’’یہ حرام ہے۔‘‘ اے مسکین!تمہاری پرہیز گاری اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں تمہاری بدگمانی کے برابر نہیں ہے۔تم نے یہ کیوں نہ کہا کہ اللّٰہعَزَّوَجَلّ  َ نہیں چاہتا کہ میں اس کھانے کو کھاؤں۔
(فیض القدیر ،۱/۳۷۳)
(حکایت:13)
مُردار اونٹ 
	 حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں کہ میں نے