Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
37 - 220
نہیں عمل کرتا۔ مَع ہٰذَا! اگر اِیذا نہ بھی ہُوئی اور اُس نے براہِ بے تکلفی بتادیا تو ایک مسلمان کی پردہ دَری ہوئی (یعنی عیب کھل گیا)کہ شرعاً ناجائز۔ غرض ایسے مقامات میں وَرع واحتیاط کی دو ہی صورتیں ہیں: یا تو اس طور پر بچ جائے کہ اُسے (یعنی مہمان نواز کو) اِجتناب ودامن کشی پر اِطلاع نہ ہو یا سوال وتحقیق کرے تو اُن امور میں جن کی تفتیش مُوجِبِ اِیذا نہیں ہوتی مثلاً کسی کا جوتا پہنے ہے وُضو کرکے اُس میں پاؤں رکھنا چاہتا ہے دریافت کرلے کہ پاؤں تَر ہیں یوں ہی پہن لوں وَعَلٰی ہٰذَا الْقِیَاس یا کوئی فاسِق بیباک مجاہر مُعلِن اس درجہ وقاحت وبے حیائی کو پہنچا ہوا ہو کہ اُسے نہ بتا دینے میں باک ہو، نہ دریافت سے صدمہ گزرے ، نہ اُس سے کوئی فتنہ مُتوقّع ہو نہ اظہارِ ظاہر میں پردہ دَری ہو تو عندالتحقیق اُس سے تفتیش میں بھی حرج نہیں ، ورنہ ہرگز بنامِ ورع واحتیاط مسلمانوں کی نفرت ووحشت یا اُن کی رُسوائی وفضیحت یا تجسّسِ عیوب ومعصیت کا باعث نہ ہو کہ یہ سب امور ناجائز ہیں اور شکوک وشبہات میں ورع نہ برتنا ناجائز نہیں۔ عجب کہ امرِ جائز سے بچنے کے لئے چند ناروا باتوں کا ارتکاب کرے ،یہ بھی شیطان کا ایک دھوکا ہے کہ اسے محتاط بننے کے پردے میں محض غیر محتاط کردیا۔ اے عزیز!مداراتِ خَلْق واُلفت ومُوانست (یعنی لوگوں سے اچھی طرح پیش آنا اور اُلفت ومحبت کا برتاؤ کرنا )اہم اُمور سے ہے۔ (فتاوی رضویہ مخرجہ، ۴/۵۲۶)
(حکایت:11)
حلال کو حلال ہی جانو
		حضرت سیدنا امام شاذلیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی بہت بڑے متقی بزرگ تھے۔