کے ہاں دعوت کھانا درست ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۵/ ۸۰)
کسی کے کھانے کے بارے میں تفتیش نہ کی جائے
اعلیٰ حضرت رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں :شرعِ مطہر میں مَصلحت کی تحصیل سے مُفْسِدہ (یعنی نقصان دہ چیز)کا اِزالہ مُقَدَّم تَر ہے مثلاً مسلمان نے دعوت کی (اور)یہ اس کے مال وطعام کی تحقیقات کر رہے ہیں: کہاں سے لایا؟ کیونکر پیدا کیا؟ حلال ہے یا حرام؟ کوئی نجاست تو اس میں نہیں ملی ہے ؟کہ بیشک یہ باتیں وحشت دینے والی ہیں اور مسلمان پر بدگمانی کرکے ایسی تحقیقات میں اُسے اِیذا دینا ہے خصوصاً اگر وہ شخص شرعاً معظم ومحترم ہو، جیسے عالمِ دین یا سچا مرشد یا ماں باپ یا استاذ یا ذی عزت مسلمان سردارِ قوم تو اِس نے (تحقیقات کر کے)اور بے جا کیا، ایک تو بدگمانی دوسرے مُوحِش (یعنی وحشت میں ڈالنے والی)باتیں ، تیسرے بزرگوں کا ترکِ ادب۔ اور (یہ خواہ مخواہ کا متقی بننے والا)یہ گمان نہ کرے کہ خفیہ تحقیقات کر لوں گا، حَاشَا وَکَلَّا!اگر اسے خبر پہنچی اور نہ پہنچنا تعجب ہے کہ آج کل بہت لوگ پرچہ نویس (یعنی باتیں پھیلانے والے)ہیں تو اس میں تنہا بَررُو (یعنی اکیلے میں اس سے) پوچھنے سے زیادہ رنج کی صورت ہے کَمَاھُوَ مُجَرَّبٌ مَعْلُوْمٌ(جیسا کہ تجربہ سے معلوم ہے۔ ت)نہ یہ خیال کرے کہ احباب کے ساتھ ایسا برتاؤ برتوں گا، ہَیْہَات! اَحِبّا (دوستوں )کو رنج دینا کب روا ہے؟ اور یہ گمان کہ شاید اِیذا نہ پائے ، ہم کہتے ہیں شاید اِیذا پائے، اگر ایسا ہی ’’شاید‘‘ پر عمل ہے تو اُس کے مال وطعام کی حِلّت وطہارت میں’’ شاید‘‘ پر کیوں