Brailvi Books

تکلیف نہ دیجئے
35 - 220
 علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں تکلُّف کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتاتو میں تمہارے لئے تکلف کرتا ۔ میرے دوست نے کہا :  پودینہ بھی ہوتا تو زیادہ اچھا تھا ۔ چنانچہ ، آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ باہر گئے اور اپنا لوٹا گِروی رکھ کر پودینہ لے آئے ۔ جب ہم کھا چکے تو میرے دوست نے کہا : ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ قَنَعَنَا بِمَا رَزَقَنَا‘‘یعنی تمام تعریفیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے ہمیں عطا کردہ رِزْق پر قناعت کی توفیق دی۔حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  نے فرمایا : اگر تم موجود رزق پر قناعت کرتے تو میرا لوٹا گروی نہ ہوتا ۔
(المستدرک،کتاب الاطعمۃ،کرامۃ الخبز۔۔۔الخ،۵ /۱۶۹،حدیث : ۷۲۲۸)
پوچھ گچھ نہ کرے
		تمہاری آمدنی حرام ہے یا حلال؟یہ کھانا یا پانی کہاں سے لائے ہو؟ جیسے سوالات نہیں کرنے چاہئیں،سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمان ہے : جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے تو اس کا کھانا کھائے اور پوچھ گچھ نہ کرے ، اس کا پانی پیے اور پوچھ گچھ نہ کرے ۔(شعب الایمان،باب فی المطاعم والمشارب،۵/ ۶۷،حدیث:۵۸۰۱)
		مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : خواہ مخواہ اس سے یہ نہ پوچھو کہ یہ کھانایا دودھ پانی کہاں سے آیا ہے ؟ تیری کمائی کیسی ہے ؟ حرام ہے یا حلال ؟ کہ اس میں بلاوجہ بھائی مسلمان پر بدگمانی ہے اور صاحبِ خانہ کو اِیذا رسانی ۔ خیال رہے کہ مخلوط آمدنی والے