کھانے میں عیب نکالنا اپنے گھر پربھی نہ چاہیے،مکروہ وخلافِ سنت ہے ۔ (سرکارِ دو عالم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ) عادت کریمہ یہ تھی کہ پسند آیا تو تناوُل فرمایاورنہ نہیں ۔اور پرائے گھر عیب نکالنا تو(اس میں) مسلمانوں کی دل شکنی ہے اور کمالِ حرص وبے مُروَّتی پر دلیل ہے ۔ ’’گھی کم ہے یا مزہ کا نہیں ‘‘یہ عیب نکالنا ہے اور اگر کوئی شے اسے مُضِر(نقصان دینے والی) ہے ، اسے نہ کھانے کے عذرکے لئے اس کا اِظہار کیا نہ کہ بطورِ طعن وعیب مثلاً ’’اس میں مرچ زائد ہے میں اتنی مرچ کا عادی نہیں‘‘ تو یہ عیب نکالنا نہیں اور اتنا بھی (اس وقت کہ جب ) بے تکلفی خاص کی جگہ ہو اور اس کے سبب دعوت کُنندہ (یعنی میزبان) کو اور تکلیف نہ کرنی پڑے مثلاً دو قسم کا سالن ہے ،ایک میں مرچ زائد ہے اور یہ عادی نہیں تو اسے نہ کھائے اور وجہ پوچھی جائے تو بتادے ۔ اور اگر ایک ہی قسم کا کھانا ہے ،اب اگر (یہ)نہیں کھاتا تو دعوت کنندہ(یعنی میزبان) کو اس کے لئے کچھ اور منگانا پڑے گا ، اُسے نَدامت ہوگی اور تنگ دَست ہے تو تکلیف ہوگی تو ایسی حالت میں مروت یہ ہے کہ صبر کرے اور کھائے اور اپنی اذیت ظاہر نہ کرے ۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم (فتاویٰ رضویہ ، ۲۱/ ۶۵۲)
(حکایت:10)
میرا لوٹا گِروی نہ ہوتا
حضرت سیِّدُنا شقیقعلیہ رحمۃ اللّٰہِ المَتِین بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی زیارت کے لئے گیا ، انہوں نے روٹی اور نمک سے ہماری میزبانی کی اور فرمایا: اگررسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی